سپریم کورٹ نے وفاقی ملازمین کی تعداد کم کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کی راہ ہموار کر دی

اعلیٰ عدالت کا فیصلہ، ٹرمپ کے لیے ایک اور بڑی کامیابی


اشنگٹن: امریکہ کی سپریم کورٹ نے منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وفاقی حکومت کے ملازمین کی تعداد کم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کی اجازت دے دی، حالانکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اہم حکومتی خدمات متاثر ہوں گی اور لاکھوں سرکاری ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔

اعلیٰ عدالت نے ان ماتحت عدالتوں کے احکامات کو معطل کر دیا جنہوں نے اس فیصلے پر عارضی طور پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم میں کہا کہ عدالت کے سامنے فی الحال کسی خاص محکمے یا عہدے کی کٹوتی کا معاملہ نہیں بلکہ صرف صدر کا جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر اور ایجنسیوں کو ملازمین میں کمی کی ہدایات کا جائزہ ہے۔

جسٹس کیتنجی براون جیکسن واحد جج تھیں جنہوں نے فیصلے کی مخالفت کی۔ انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عدالت نے صدر کے “قانونی طور پر مشکوک اقدامات کو ہنگامی بنیادوں پر منظور کرنے میں حد سے زیادہ جوش” دکھایا۔ جیکسن نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے “انتہائی سنگین اثرات” ہو سکتے ہیں، جس سے لاکھوں سرکاری ملازمین کی نوکریاں ختم، اہم سرکاری پروگرام معطل اور وفاقی حکومت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک اور بڑی کامیابی ہے، جنہیں عدالت نے وفاقی حکومت کو نئے انداز میں تشکیل دینے کے منصوبے کے اہم حصوں پر عمل درآمد کی اجازت دے دی۔ ریپبلکن صدر نے بارہا کہا ہے کہ عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ بیوروکریسی کو کم کریں اور کارکردگی بہتر بنائیں۔ اس منصوبے کی نگرانی ارب پتی ایلون مسک کے حوالے کی گئی تھی، جو حال ہی میں اس عہدے سے الگ ہو چکے ہیں۔

اب تک ہزاروں سرکاری ملازمین فارغ کیے جا چکے ہیں، کچھ نے ڈیفرڈ ریزائنیشن پروگرام کے ذریعے خود استعفیٰ دیا جبکہ کئی پروبیشنری ملازمین کو برطرف کر دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم 75,000 ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

گزشتہ مئی میں، امریکی ڈسٹرکٹ جج سوزن السٹن نے حکم دیا تھا کہ وفاقی حکومت اتنے بڑے پیمانے پر ملازمین میں کمی کرنے کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے السٹن کے حکم کو روک دیا، حالانکہ نچلی عدالتوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس فیصلے سے فوڈ سیفٹی اور ویٹرنز کی صحت کی دیکھ بھال جیسے اہم نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔

وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ کئی بڑے شہروں بشمول بالٹیمور، شکاگو اور سان فرانسسکو نے بھی اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ مزدور یونینوں اور سماجی تنظیموں نے عدالت کو بتایا کہ کچھ ایجنسیوں میں 40 سے 50 فیصد تک کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔

متاثرہ محکموں میں زراعت، توانائی، محنت، داخلہ، خارجہ امور، خزانہ اور ویٹرنز افیئرز کے محکمے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن، سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن، اسمال بزنس ایسوسی ایشن اور ماحولیاتی تحفظ ایجنسی بھی اس حکم کے دائرے میں آتی ہیں۔

یہ کیس اب دوبارہ جج السٹن کی عدالت میں سماعت کے لیے بھیجا جائے گا۔