غزہ میں جنگ ختم کرنا ٹرمپ کی اولین ترجیح: وائٹ ہاؤس



واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “اولین ترجیح” غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی ہے، وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے اہم ملاقات سے قبل کہا۔

اس بات کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں اور فلسطینی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی بمباری اور محاصرے نے غزہ میں انسانی بحران کو سنگین تر کر دیا ہے، جہاں لاکھوں لوگ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔

قطر میں اہم مذاکرات

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اس ہفتے قطر جائیں گے، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق دوحہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کی آزادانہ اور محفوظ فراہمی کی اجازت نہ دینا ہے۔

ذرائع کے مطابق دو مزید نشستیں پیر کے روز ہوئیں، جن میں جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔ تاہم اسرائیلی رویہ اب بھی سخت دکھائی دیتا ہے، جس سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

امریکی تجویز کیا ہے؟

امریکہ کی حمایت یافتہ تجویز میں 60 دن کی جنگ بندی شامل ہے، جس کے تحت مرحلہ وار یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا غزہ کے کچھ علاقوں سے انخلا اور جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت شامل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک “متوازن اور عملی منصوبہ” ہے جو دونوں فریقوں کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ تاہم حماس کا موقف ہے کہ وہ جنگ کے مکمل خاتمے سے پہلے باقی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گی، جبکہ اسرائیل اس وقت تک لڑائی جاری رکھنے پر بضد ہے جب تک تمام یرغمالی آزاد نہ ہو جائیں اور حماس کو مکمل طور پر ختم نہ کر دیا جائے۔

ٹرمپ کا سخت مؤقف

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ غزہ کے معاملے پر نیتن یاہو کے ساتھ “بہت سخت” رویہ اختیار کریں گے اور انہیں فوری معاہدے کی ضرورت پر قائل کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں خونریزی کو روکنا اور معصوم جانوں کو بچانا ان کی حکومت کی ترجیح ہے۔

ٹرمپ نے کہا:

“ہم مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمیں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایسا حل نکالنا ہو گا جو جنگ بند کرے، یرغمالیوں کو آزاد کرائے اور غزہ کے عوام کو ریلیف دے۔”

غزہ کے عوام کی فریاد

ادھر غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ کے رہائشی محمد السوالحہ نے پیر کو ایک اور اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کہا:

“ان شاء اللہ جنگ بندی ہو جائے گی۔ ہم جنگ بندی اس وقت دیکھیں گے جب لوگ مرنا بند ہو جائیں گے۔ ہم ایسی جنگ بندی چاہتے ہیں جو اس خونریزی کو روک دے۔”

محمد السوالحہ جیسے لاکھوں فلسطینی اس وقت موت اور بھوک کے دہانے پر ہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں خوراک کی ترسیل پر بھی سخت پابندیاں لگا دی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ خالی برتن لے کر قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

انسانی بحران میں اضافہ

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق غزہ میں انسانی بحران بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اسپتالوں میں ادویات ختم ہو رہی ہیں، پینے کا پانی ناپید ہے، اور بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

غزہ میں مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دنیا نے جلد اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ ایک بزرگ خاتون نے کہا:

“ہم تھک گئے ہیں، اب ہمیں سکون چاہیے۔ ہم اپنے بچوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔”

نتیجہ: امید کی کرن

اگرچہ اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن قطر میں جاری مذاکرات اور امریکہ کی جانب سے دباؤ بڑھانے سے کچھ امید پیدا ہوئی ہے کہ آئندہ دنوں میں کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔

غزہ کے عوام اور پوری دنیا کی نظریں اب ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی اس ملاقات پر ہیں، جس کے بعد یہ طے ہو گا کہ غزہ کے معصوم لوگ مزید خون خرابہ برداشت کریں گے یا انہیں امن کی سانس میسر آئے گی۔