ایران پر حملے اور عالمی دہرا معیار



دنیا میں انصاف اور قانون کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر جب عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو بڑے طاقتور ممالک اپنے مفاد کے لیے قانون کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران ایک بار پھر عالمی طاقتوں کا نشانہ بنا ہے، حالانکہ ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن ہے اور اس کا جوہری پروگرام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی مکمل نگرانی میں ہے۔

ایران کا مؤقف

ایران ہمیشہ یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جیسے توانائی پیدا کرنا، میڈیکل تحقیق، اور سائنسی ترقی۔ IAEA کی درجنوں رپورٹیں بھی یہی کہتی ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام میں کسی بھی طرح سے ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اس کے باوجود ایران کو پابندیوں، حملوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ایرانی سائنسدانوں کو قتل کیا گیا، اس کی جوہری تنصیبات پر حملے ہوئے، اور سائبر حملوں کے ذریعے اس کی ٹیکنالوجی کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب ایران باقاعدہ طور پر NPT کا حصہ ہے۔

اسرائیل پر خاموشی کیوں؟

دوسری طرف، اسرائیل جیسا ملک، جو نہ صرف NPT کا رکن نہیں ہے بلکہ کھلے عام اپنے جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے، اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا۔ اسرائیل دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے پاس درجنوں ایٹمی ہتھیار ہیں مگر اس نے آج تک کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ نہ اس کا پروگرام IAEA کی نگرانی میں ہے اور نہ ہی وہ کسی عالمی معاہدے کا پابند ہے۔

یہی دہرا معیار دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ طاقتور ممالک اسرائیل کی ہر زیادتی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ایران جیسے ملک کو مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں، حالانکہ ایران قانونی طور پر NPT کا پابند ہے۔

روس کی مدد کیا غیر قانونی ہے؟

اب جب روس ایران کے ساتھ جوہری تعاون کرتا ہے، تو مغربی ممالک شور مچاتے ہیں کہ یہ غیر قانونی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ روس ایران کو جو بھی مدد فراہم کر رہا ہے وہ مکمل طور پر قانونی اور NPT کے اصولوں کے مطابق ہے۔ کیونکہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا حق ہے۔

روس نے ایران میں بجلی پیدا کرنے کے لیے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ بنانے میں مدد دی جو آج بھی IAEA کی نگرانی میں ہے۔ اس منصوبے سے لاکھوں ایرانیوں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور اس میں کسی قسم کے ہتھیار بنانے کی گنجائش نہیں۔

عالمی قوانین کس کے لیے ہیں؟

یہ سوال آج ہر انصاف پسند ذہن میں ہے کہ عالمی قوانین صرف کمزور ملکوں کے لیے ہیں یا سب کے لیے؟
ایران کے خلاف پابندیاں لگائی جاتی ہیں، اس کے سائنسدان قتل کیے جاتے ہیں، اس کی معیشت تباہ کی جاتی ہے۔ مگر اسرائیل، جو کسی قانون کو نہیں مانتا، آزاد گھوم رہا ہے۔

یہ دہرا معیار عالمی اداروں کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ جب انصاف نہیں ہوگا تو اعتماد کیسے پیدا ہوگا؟

حل کیا ہے؟

دنیا کو چاہیے کہ انصاف اور قانون پر عمل کرے۔ اگر ایران جیسے ممالک سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ NPT کے اصولوں کی پابندی کریں تو اسرائیل جیسے ممالک کو بھی اس کا پابند بنایا جائے۔ ورنہ دنیا میں انصاف کا نعرہ صرف ایک ڈھکوسلہ رہ جائے گا۔

روس یا کسی بھی ملک کا ایران کی مدد کرنا اس وقت تک بالکل جائز ہے جب تک وہ NPT اور IAEA کے قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ دنیا کو ایران پر ناجائز دباؤ ڈالنے کے بجائے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک خطہ بنائیں۔

نتیجہ

ایران ایک باوقار ملک ہے جو اپنے عوام کے لیے ترقی چاہتا ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ اس کے ساتھ انصاف کرے۔ اسرائیل کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور عالمی دہرا معیار ختم کیا جائے۔ ورنہ دنیا میں بداعتمادی بڑھتی رہے گی اور امن صرف ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔