اللہ کی طرف دعوت دینا: بہترین عمل اور بلند ترین بات
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کا درس دیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھلائی کی طرف بلانے کی بھی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم خود بھی نیک عمل کریں اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیں۔ سورۃ فصلت کی آیت نمبر 33 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اور اس شخص سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے: بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔"
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے عظیم پیغام رکھتی ہے جو اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے روشنی کا مینار بنانا چاہتا ہے۔
دعوت دینا سب سے بہترین عمل
اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عمدہ بات وہ ہے جو اللہ کی طرف بلانے کے لیے کہی جائے۔ یعنی اپنی زبان سے وہ کلمات ادا کرنا جو اللہ کو پسند ہوں، جو لوگوں کے دلوں کو اللہ کے قریب کر دیں، اور جو معاشرے میں نیکی اور خیر کو پھیلا دیں۔
یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا گیا۔ ہر نبی نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا، انہیں شرک سے روکا اور توحید و اخلاص کا درس دیا۔
نیک عمل کی ضرورت
دعوت صرف زبان سے دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ اپنے عمل کو بھی درست رکھنا ضروری ہے۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ دعوت دینے والا نیک عمل کرنے والا بھی ہو۔
اگر کوئی شخص صرف باتیں کرتا ہے مگر اس کے اپنے اعمال اس کے الفاظ کی تردید کرتے ہیں تو اس کی دعوت اثر نہیں رکھتی۔ اس لیے اللہ نے دونوں باتوں کو جوڑ دیا:
نیکی کی دعوت
اور نیک عمل
یہی وہ کامل کردار ہے جسے دیکھ کر لوگ متاثر ہوتے ہیں اور اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
مسلمان ہونے پر فخر
تیسری بات اس آیت میں یہ کہی گئی کہ دعوت دینے والا شخص یہ کہے: "میں مسلمانوں میں سے ہوں۔"
یعنی اسلام کو اختیار کرنا اور اس پر فخر کرنا۔ اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ نہ ہونا بلکہ اپنی پہچان کو ظاہر کرنا۔ آج کے دور میں بعض لوگ اپنے دین کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنے نام سے اسلام کا رنگ اتار دیتے ہیں۔ یہ رویہ قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فخر سے اپنے دین اور اپنی پہچان کو ظاہر کریں اور دنیا کو بتائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
دعوت کا دائرہ کار
دعوت دینا صرف علماء یا مبلغین کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر مسلمان کو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی طرف بلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"بلغوا عني ولو آية"
"میری طرف سے ایک آیت ہی سہی، پہنچاؤ۔"
یعنی اگر کوئی شخص قرآن و حدیث کی ایک بات بھی جانتا ہے تو اسے آگے پہنچانا چاہیے۔ اس کے لیے بڑے اجتماعات یا منبر پر کھڑا ہونا ضروری نہیں۔ روز مرہ زندگی میں، گفتگو کے دوران، اپنے اخلاق و کردار سے بھی اللہ کی طرف بلایا جا سکتا ہے۔
دعوت کے اثرات
دعوت دینا ایسا عمل ہے جس کا اثر نہ صرف دنیا میں ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اس کا اجر عظیم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص کسی کو ہدایت کی طرف بلائے تو اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہے جتنا اس پر عمل کرنے والوں کے لیے ہوگا۔"
(مسلم)
یعنی جو نیک عمل ہم خود کریں اور دوسروں کو اس کی دعوت دیں، اس کا اجر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
دعوت کے آداب
دعوت کے کچھ آداب ہیں جنہیں اپنانا ضروری ہے:
نرمی کے ساتھ بات کرنا
حکمت سے سمجھانا
بدزبانی یا سختی سے گریز کرنا
سننے والے کی نفسیات کو سمجھنا
اپنے عمل سے اچھا نمونہ پیش کرنا
قرآن میں فرمایا گیا:
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔"
(النحل: 125)
نتیجہ
اسلام کا پیغام ایک عالمگیر پیغام ہے جسے ہر مسلمان تک پہنچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہترین امت اس لیے بنایا کہ ہم بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ دعوت دینا محض ایک فریضہ نہیں بلکہ ایک عزت ہے جو اللہ اپنے خاص بندوں کو دیتا ہے۔ اس آیت کے مطابق اللہ کے نزدیک سب سے خوبصورت بات وہ ہے جو اللہ کی طرف بلانے والی ہو، جو خیر اور اصلاح کی دعوت دے، اور جو انسانیت کو نجات کا راستہ دکھائے۔
ہم سب کو چاہیے کہ ہم بھی اپنے مسلمان ہونے پر فخر کریں، اپنے عمل کو بہتر کریں اور اپنی زبان و کردار سے اللہ کی طرف دعوت دینے والے بن جائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اللہ کو راضی کرتا ہے اور ہماری دنیا و آخرت کو کامیاب بنا دیتا ہے۔
دعا:
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی طرف بلانے والا اور نیک عمل کرنے والا بنا دے اور اپنے دین کی صحیح خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

0 Comments