پیر کی صبح تہران اور ایران کے دیگر علاقوں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے، جب کہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "فوجی اہداف" پر حملے کیے ہیں۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران میں تین نیوکلیئر سائٹس پر ایک "کامیاب" بمباری کی ہے اور انہیں "تباہ کر دیا گیا" ہے۔ نقصان کی مکمل حد کا اندازہ ابھی لگایا جانا باقی ہے۔


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اتوار کے روز سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر بمباری ایک "خطرناک موڑ" ہے۔


اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر رات کے وقت بمباری کے بعد اسرائیل ایران میں اپنے مقاصد کے "مزید قریب" پہنچ گیا ہے۔


ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ماسکو پہنچ چکے ہیں اور وہ پیر کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے موجودہ صورتحال پر مشاورت کریں گے۔