ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے مطالبے کے رد عمل میں کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات کبھی ترک کیے ہی نہیں تھے۔ انہوں نے  ایکس پر لکھا، ’’گزشتہ ہفتے ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تھے، جب اسرائیل نے سفارت کاری کو تباہ کر دیا۔‘‘ عراقچی نے مزید لکھا، ’’اس ہفتے ہم نے E3/EU (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کے ساتھ بات چیت کی، جب امریکہ نے سفارت کاری کو تباہ کر دیا۔ آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کریں گے؟‘‘

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’برطانیہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے نزدیک ایران کو مذاکرات کی میز پر ’واپس آنا‘ چاہیے۔ مگر ایران کسی ایسی چیز پر کیسے واپس آ سکتا ہے جسے اس نے کبھی چھوڑا ہی نہیں، (مذاکرات) تباہ کرنا تو دور کی بات ہے؟‘‘