جھگڑالو انسان: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند



اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اخلاقیات، برداشت، نرمی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ساری زندگی اس بات کی عملی تفسیر تھی کہ مسلمان کو کیسا اخلاق اپنانا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے۔
لیکن بدقسمتی سے آج کے دور میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑنے لگتے ہیں، زبان کی سختی اور دل کی سختی ان پر غالب آ جاتی ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جھگڑالو انسان اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ جی ہاں! یہ کوئی عام بات نہیں بلکہ حدیثِ مبارکہ ﷺ سے ثابت ہے۔


 فرمانِ نبوی ﷺ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔"
(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث: 2457)

اس حدیثِ مبارکہ میں نبی ﷺ نے صاف الفاظ میں ہمیں اس بری عادت سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ جھگڑالو ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہمیشہ دوسروں پر غالب آنے کی کوشش کرے، بحث و تکرار کرے، بات کو انا کا مسئلہ بنا لے اور کسی صورت درگزر نہ کرے۔


 جھگڑالو ہونے کے نقصانات

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جھگڑالو انسان نہ صرف اپنی آخرت برباد کرتا ہے بلکہ اپنی دنیا کو بھی برباد کر لیتا ہے۔ ایسے شخص کی عزت ختم ہو جاتی ہے، لوگ اس سے دور رہنے لگتے ہیں، گھر کا سکون چھن جاتا ہے، رشتے بکھر جاتے ہیں اور معاشرے میں فساد پیدا ہوتا ہے۔


نرمی اپنانا سنت ہے

نبی کریم ﷺ کی سنت یہ ہے کہ نرم بات کریں، اختلاف ہو تب بھی برداشت کریں، اور اگر بات بگڑنے لگے تو خاموشی اختیار کر لیں۔
ایک اور حدیث میں آتا ہے:

"جو شخص باطل ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے، میں اس کے لیے جنت کے ایک محل کی ضمانت دیتا ہوں۔"
(ابو داود، کتاب الادب، حدیث: 4800)

یعنی اگر انسان صرف اللہ کی رضا کے لیے جھگڑا چھوڑ دے چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے جنت عطا فرمائے گا۔


آج کی بات: خواہشات کی پیروی اور جھگڑا

تصویر میں ایک نہایت اہم نصیحت لکھی ہے:

"خواہشات بندے کو باطل کی طرف لے جاتی ہیں۔"

یہ بات بالکل درست ہے۔ اکثر انسان اپنی خواہشات اور انا کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بس اپنی بات منوانا چاہتا ہے چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے کہ اپنی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں بلکہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔


 عملی اقدامات

سب سے پہلے اپنے غصے پر قابو پائیں۔
 بحث اور جھگڑے سے بچیں حتیٰ کہ حق پر ہوتے ہوئے بھی۔
 نرم زبان استعمال کریں، درگزر کریں۔
 رشتوں کو جوڑنے والے بنیں، توڑنے والے نہیں۔
 اللہ تعالیٰ کی رضا کو سب سے مقدم رکھیں۔


 نتیجہ

آئیے! آج عہد کریں کہ ہم اپنی زبان، اپنے رویے اور اپنے دل کو نرم بنائیں گے۔ ہم برداشت اور معاف کرنے کا جذبہ اپنائیں گے۔
جھگڑا کرنے سے نہ دنیا سنورتی ہے اور نہ آخرت۔ لیکن صبر اور نرمی سے دونوں جہان سنور جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے اور اپنے دل کو حسد، بغض اور جھگڑالو پن سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمی
ن۔


حوالہ:

حدیث نبوی ﷺ:

"إن أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم"

ترجمہ: ’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔‘‘
(صحیح بخاری: 2457، کتاب الادب)