کورین نوجوان نے مسلمان مزدوروں کیلئے اپنے گھر کو مسجد میں بدل دیا
جنوبی کوریا کے جزیرہ جیجو میں انڈونیشیا، پاکستان اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مسلم مہاجر مزدوروں کے لیے اب نماز کی جگہ میسر ہے اور یہ سب ممکن ہوا ایک کورین نوجوان کی بدولت۔
ن مسلم 35 سالہ ناصر ہونگ سُک سونگ، جو ایک مچھلی فارم چلاتے ہیں، نے جب جیجو میں سکونت اختیار کی تو اُنہیں خود نماز کے لیے کوئی جگہ نہیں ملی۔ اس محرومی نے انہیں افسردہ کر دیا۔ بعد ازاں جب انہوں نے اپنا گھر خریدا تو اُس کا ایک حصہ نمازیوں کے لیے مختص کر دیا اور اسے مُصَلّٰی میں تبدیل کر دیا۔
جیجو جزیرے میں موجود واحد مسجد فش فارم والے ساحلی علاقے سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، جہاں اکثر مہاجر مزدور کام کرتے ہیں۔ سونگ کے مطابق فش فارم کے کارکن چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے جمعے کی نماز مسجد جا کر ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
جیجو، جسے جنوبی کوریا کا “ہوائی” کہا جاتا ہے، اپنی معیشت کے لیے مہاجر مزدوروں پر انحصار کرتا ہے، جن میں سے اکثریت انڈونیشیا، پاکستان اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مسلمان مردوں پر مشتمل ہے۔
ناصر سونگ ایک نو مسلم کورین نوجوان ہیں، انہوں نے اسلام کو اُس وقت اپنایا جب وہ انچیون کے بندرگاہی شہر میں رہائش پذیر تھے اور وہاں ایک گیسٹ ہاؤس چلاتے تھے۔ اُن کے مہمانوں میں اکثر مسلمان ہوا کرتے تھے۔ ان ملاقاتوں سے اُنہیں اسلام سے متعلق پائے جانے والے غلط تصورات کو سمجھنے اور رد کرنے میں مدد ملی، جس کے بعد 2023 میں انہوں نے باقاعدہ اسلام قبول کیا۔
ناصر سونگ کہتے ہیں کہ لوگ بہت سے غیر مسلم افراد غلط فہمی میں دین اسلام کو اچھا نہیں سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں جب کوریا میں اسلام کا ذکر ہوتا ہے تو اسے کسی اجنبی یا غیر مانوس شے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا۔

0 Comments