اردوان کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کے امدادی مراکز پر فائرنگ کے معاملے پر ٹرمپ سے مداخلت کی درخواست کی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ غزہ کے امدادی مراکز پر فائرنگ رکوانے کے لیے مداخلت کریں، جس میں اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 500 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اردوان نے بتایا کہ جون کے آخر میں نیٹو سمٹ کے دوران ٹرمپ سے ملاقات میں انہوں نے خونریزی بند کرانے کے لیے اقدام کرنے کو کہا۔

انہوں نے کہا:

’’میں نے ان سے کہا کہ آپ ہی وہ شخصیت ہیں جو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اس عمل کو سب سے بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔ خاص طور پر کھانے کے لیے لگی قطاروں میں لوگ مارے جا رہے ہیں۔

آپ کو یہاں مداخلت کرنی چاہیے تاکہ ان لوگوں کو نہ مارا جائے۔‘‘

ان کے یہ ریمارکس ہفتے کو سرکاری خبر ایجنسی اناطولیہ نے شائع کیے۔

اسرائیل نے مارچ کے آغاز میں غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی روک دی تھی جس سے پہلے سے تباہ حال علاقے میں انسانی بحران مزید شدید ہو گیا، تاہم 26 مئی کو ’’غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف)‘‘ نامی ایک گروپ، جو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ ہے، نے سامان تقسیم کرنا شروع کیا۔

تاہم اس کے بعد سے اس کے مراکز پر ہنگامہ خیز مناظر اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کی خبریں آ رہی ہیں، جہاں لوگ راشن لینے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق جمعے تک جی ایچ ایف کے مراکز کے قریب 500 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ان واقعات کا الزام حماس پر عائد کیا ہے جبکہ اس ہفتے جی ایچ ایف کے چیئرمین جانی مور نے دعویٰ کیا کہ ان کے چار مراکز کے اندر یا قریب کسی فلسطینی کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

اردوان نے مزید کہا کہ 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کا خاتمہ غزہ میں لڑائی روکنے کا ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا:

’’ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نے غزہ کے لیے بھی ایک دروازہ کھولا ہے۔ اس حوالے سے حماس بارہا اپنی نیک نیتی ظاہر کر چکی ہے۔‘‘
یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ان کے انٹیلی جنس سربراہ اور وزیر خارجہ چند روز قبل حماس کے اعلیٰ حکام سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں 60 دن کی مجوزہ جنگ بندی کے لیے امریکی دباؤ ’’فیصلہ کن‘‘ ہو گا اور ضمانتوں کا معاملہ ’’انتہائی اہم‘‘ ہے۔

انہوں نے کہا:

’’اگر جنگ بندی ہو جائے تو بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر تعمیر نو کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ اگر مستقل جنگ بندی حاصل ہو جائے تو خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔‘‘